27 اگست 2026 - 15:53
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز؛ آبنائے ہرمز مرکزِ نگاہ

تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کوششوں کے دوران آبنائے ہرمز اہم ترین موضوع بن گیا ہے۔ آزادانہ بحری آمدورفت اور کشیدگی کم کرنے کے طریقہ کار پر آئندہ ہونے والی بات چیت میں خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی آج تہران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں ایرانی حکام سے بات چیت کریں گے۔ توقع ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت اور فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے طریقے ان مذاکرات کے اہم موضوعات ہوں گے۔

اسی دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں آبی گزرگاہ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے طریقہ کار پر اتفاق کی اطلاع دی ہے، تاہم اس اہم بحری راستے میں آمدورفت اب بھی متاثر ہے۔

دوسری جانب بلومبرگ کے مطابق، امریکی فوجی قیادت ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ مشن کے حوالے سے رابطہ اور ہم آہنگی کی جا سکے۔

اس سے قبل امریکہ کی میزبانی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز تھی، تاہم اب معاہدے کے بعد امریکی اور یورپی فوجی کمانڈروں کے درمیان اجلاس پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

سفارتی کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی صورتحال بدستور نازک ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم نوعیت کے ایک پرتابے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم بعد میں آگ پر قابو پالیا گیا۔ جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

تاہم کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق بنیادی ضروریات کی اشیا لے جانے والے بحری جہازوں کی آمدورفت میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کے روز 10 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ منگل کو یہ تعداد 8 تھی۔

ادھر امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز تھیوڈور روزویلٹ آئندہ چند ہفتوں میں سان ڈیاگو سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے زیرِ انتظام خطے کی جانب روانہ ہونے والا ہے۔ یہ طیارہ بردار جہاز اپنے معاون بحری جہازوں اور فضائی یونٹ کے ساتھ سات ماہ سے زائد عرصے پر مشتمل مشن پر روانہ ہوگا اور امکان ہے کہ وہ طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن کی جگہ لے گا۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی تیل منڈی بھی مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے بعد 87.24 ڈالر جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 0.7 فیصد کمی کے بعد 81.67 ڈالر فی بیرل رہی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha